
بادشاہی کا طریقہ
15/01/2025
بادشاہی کا بادشاہ اور شریعت
21/01/2025بادشاہی کے شہریوں کا چال چلن
متی اپنی یادگار اِنجیل میں یسوع مسیح کو اَبرہام اور داؤد کی نسل کے طور پر متعارف کراتا ہے، وہ اُس کی کنواری سے معجزانہ پیدایش، اُس کے مصر کو جانے اور واپس ناصرۃ آنے کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ اُس کی عوامی خدمت کے آغاز پر یوحنا اِصطباغی پکار کر کہتا ہے کہ ”توبہ کرو کیوں کہ آسمان کی بادشاہی نزدیک ہے“ (متی 2:3)۔ بعد میں جب اُس نے یوحنا کی گرفتاری کی خبر سنی تو یسوع نے ہو بہو وہی منادی کرنا شروع کی (متی 17:4)۔ پھر بھی یوحنا صرف مسیح کا پیش رو ہے اور یسوع ”مسیح“۔ پھر یسوع پیروکاروں کی ایک بہت بڑی بھیڑ جمع کرتا اور دُور دُور تک سفر کرتا ہے۔”اور یِسُوع تمام گلیل میں پھِرتا رہا اور اُن کے عِبادت خانوں میں تعلِیم دیتا اور بادشاہی کی خوش خبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دُور کرتا رہا“ (متی 23:4)۔
اِس تمہید کے بعد متی اپنی اِنجیل میں یسوع مسیح کی تعلیم کے پانچ بڑے حصوں میں سے پہلے کو کھولتا ہے۔ پانچویں نمبر پر وہ اسفاِ خمسہ یعنی موسیٰ کی پہلی پانچ کتابوں کی یاد دِلاتا ہے۔ اِسی طرح، یسوع مسیح کا پہاڑ پر چڑھنا ہمیں موسیٰ کے کوہِ سینا پر چڑھنے کی یاد دِلاتا ہے جب اُس نے شریعت کو حاصل کیا۔ اِس موسوی تعلق کو یسوع کی منادی میں بار بار تقویت ملتی ہے ”تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا۔۔۔ لیکن مَیں تم سے کہتا ہوں“ (متی 21:5-22؛،27،28 ،31-32، 33-34، 38-39، 43-44)۔ متی کا پیغام بالکل واضح ہے: یسوع ایک نیا موسیٰ ہے جو اِختیار کے ساتھ تعلیم دیتا اور خدا کی شریعت کو لاگو کرتا ہے(متی 28:7-29)۔ متی کی اِنجیل کے اِس اِبتدائی بیان میں اور پہاڑی وعظ کے آغاز پر یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو بادشاہی شہریوں کے کردار کے بارے میں سکھایا۔ ایک عظیم اُستاد کی حیثیت سے، وہ اِن تمام خصوصیات کو آٹھ یادگار برکات کی صورت میں پیش کرتا ہے، ہر اُس شخص پر دو اِستعاراتی صفات ”نمک اور نور“ کے ساتھ برکت کا اِعلان کرتا ہےجو جداگانہ خصوصیت رکھتا ہے۔ اِس طرح، یسوع نے موسیٰ کی شریعت میں پائے جانے والے دس اَلفاظ یا دس احکام کو اُن لوگوں کے نقطہ نظر سے دُہرایا جو خدا کی اَبدی بادشاہی کو میراث میں پانے اور اُس میں بسنے والے تھے۔ بالخصوص ”جب اُس نے ہجوم کو دیکھا“ یسوع نے اپنا کلام اپنے پیروکاروں کو بتایا (متی 1:5-2)۔
مُبارک ہیں وہ جو دِل کے غریب ہیں کیوں کہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے (متی 3:5)۔
یسوع نے بادشاہی کے شہری کی حیثیت سے اپنی تصویر میں شاید حیران کُن صفت کے ساتھ رنگ بھرنے شروع کئے۔ ”مبارک، یعنی خدا کی طرف سے ہمیشہ کے لیے پسندیدہ“ وہ ہیں جو اپنے آپ کو رُوحانی طور پر غریب اور محتاج جانتے ہیں۔ جیسے کہ یسوع مسیح کی تمثیل میں پائے جانے والے دو افراد فریسی اور محصول لینے والا۔ فریسی شیخی باز، متکبراور اپنے تمام مذہبی کارناموں پر فخر کرتا تھا، جبکہ محصول لینے والا ” لیکِن محصُول لینے والے نے دُور کھڑے ہو کر اِتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف آنکھ اُٹھائے بلکہ چھاتی پِیٹ پِیٹ کر کہا اَے خُدا! مجھ گنہگار پر رحم کر “(لوقا 13:18)۔ جو لوگ اپنے آپ کو رُوحانی طور پر غریب جانتے ہیں وہ خدا کے لیے اپنی ضرورت اور اُس پر اِنحصار کرنےکو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ رحم کے لیے اِلتجا کرتے ہیں، کیوں کہ وہ اِس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اپنی خوبیوں کے باعث راست اور مقدس خدا کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے۔
مُبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیوں کہ وہ تسلّی پائیں گے (متی 4:5)۔
اگلی برکت میں، یسوع عہدِ عتیق کی حکمت کے ایک حصے کی تصدیق کرتا ہے جو کہ وعظ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے ” ماتم کے گھر جانا ضیافت کے گھر میں داخل ہونے سے بہتر ہے کیوں کہ سب لوگوں کا اَنجام یہی ہے اور جو زندہ ہے اپنے دِل میں اِس پر سوچے گا“(وعظ 2:7)۔ اِس حقیقت کے پیشِ نظر ہم سب ایک دِن مر جائیں گے اِس لیے ہمیں اپنی اَبدیت کی روشنی میں زندہ رہنا چاہئے۔ چناں چہ ”دانا کا دِل ماتم کے گھر میں ہے لیکن احمق کا جی عشرت خانہ سے لگا ہے“(وعظ 4:7)۔ سرکش خوشی کی تلاش میں بالآخر ابدی سچائیوں کی تردید کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں، جبکہ عقل مند آدمی اپنی اَبدیت سے خوب واقف ہوتا ہے، وہ اپنے اور اِردگرد پائے جانے والے دِیگر اَفراد کے گناہوں پر ماتم کرتا ہے، اپنی کوتاہیوں اور خدا کے خلاف بغاوت کو جان کر وہ اپنے آپ کو خدا کے رحم پر چھوڑ دیتے اور اُس سے اِطمینان اور معافی حاصل کرتے ہیں۔ یسوع نے موسیٰ کی شریعت میں پائے جانے والے دس اَلفاظ یا دس احکام کو اُن لوگوں کے نقطہ نظر سے دُہرایا جو خدا کی اَبدی بادشاہی کو میراث میں پانے اور اُس میں بسنے والے تھے۔
مُبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیوں کہ وہ زمِین کے وارِث ہوں گے (متی 5:5)۔
ہمارے زمانے میں نرم مزاجی نایاب چیز ہے، جب اپنی ہی تشہیر کرنے کا نظامِ حکومت ہے، سوشل میڈیا جاننے والوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، دُوسروں کو ملتوی کرنا کمزوری تسلیم کیا جاتا ہے، اگر آپ خود پر اِعتماد نہیں کرتے تو روایتی حکمت جاتی ہے اور آپ کو پامال کیا جائے گا۔ دُوسری طرف یسوع ”حلیم اور دِل کا فروتن“ ہے (متی 29:11)۔ وہ اپنے آپ کو حلیموں پر ظاہر کرے گا لیکن مغروروں اور خود پر اِنحصار کرنے والوں کا مقابلہ کرے گا۔ وہ تھکے ماندوں کو آرام دے گا جبکہ مغروروں کو اپنے ہی بھاری بوجھ اُٹھانے کے لیے چھوڑ دے گا۔ خدا حاکمیت اعلیٰ ہے اور یسوع بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ہے۔ ہم اِس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں جو خدا ہمیں دیتا ہے۔ لہٰذا حکمت، عاجزی اور حلیمی کے ساتھ اپنی فراہمی کے لیے اپنے حاکمِ کل خدا کے فضل اور رحم پر نگاہ رکھیں۔ وہ اُس کے پروں کے سائے میں چھپ جاتے اور اُس کی پناہ چاہتے ہیں، اِس اِعتماد کے ساتھ کہ یہ فروتن اور خود کو فروغ دینے کے برعکس حلیم ہیں جو زمین کے وارث ہوں گے۔
مُبارک ہیں وہ جو راست بازی کے بھُوکے اور پیاسے ہیں کیوں کہ وہ آسُودہ ہوں گے(متی 6:4)۔
خدا کی بادشاہی، اُس کی حکمرانی کے تحت ایک عالم ہے، ایک ایسی جگہ جہاں راست بازی کی حکومت ہے، کیوں کہ خدا خود اپنے کردار میں بے عیب اور اپنے آپ میں کامل راست باز ہے۔ اِسی طرح وہ لوگ جو ”راست بازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں“ اِطمینان پائیں گے۔ بعد میں یسوع اپنے پیروکاروں سے کہتا ہے کہ ” کیوں کہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تمہاری راست بازی فقیہوں اور فرِیسِیوں کی راست بازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگِز داخِل نہ ہوگے“ (متی 20:5)۔ اپنی طرف سے اُنہیں چاہئے کہ” بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چِیزیں بھی تُم کو مِل جائیں گی“ (متی 33:6)۔ کیا مَیں اور آپ واقعی اِس قیمتی یگانگت کے متلاشی ہیں؟ یا پھر ہم ترجیحی سلوک کے آرزُومند، دُوسروں کو قابو میں کرنے اور اُن سے اپنا کام نکالنے کے نفیس طریقے تلاش کرتے ہیں، مناسب طور پر اُن کو جانے بغیر؟۔ ایک بار پھر یسوع دِل کے معاملے کی نفی کرتا اور ایک ایسے دِل کا مطالبہ کرتا ہے جو راست بازی سے خوش ہو۔ یقیناً اِس میں مسیح کے علاوہ کوئی نہیں، جسے خدا نے ” ہماری خاطر۔۔۔ گناہ ٹھہرایا۔۔۔جبکہ وہ گناہ سے واقف نہ تھا تاکہ ہم اُس میں ہوکر خُدا کی راست بازی ہو جائیں“ (2۔کرنتھیوں 21:5)۔
مُبارک ہیں وہ جو رحم دِل ہیں کیوں کہ اُن پر رحم کِیا جائے گا (متی 7:5)۔
وہ جو رحم کرتا ہے وہ اِس بات کو جانتا ہے کہ اُسے خود بھی رحم کی ضرورت ہے اور وہ مسیح میں رحم پاتا ہے (رومیوں 1:12)۔ رحم پانے والے کی حیثیت سے دُوسروں پر رحم کرتا ہے، اُن کے ساتھ رحم دِلی اور شفقت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اِس طرح، رحم راست بازی کا توازن قائم رکھتا ہے۔ رحم کمزوری کے طور پر سامنے آ سکتا ہے، لیکن درحقیقت جو لوگ رحم کرتے ہیں وہ اندرونی قوت سے ایسا کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ وہ خدا کی محبت میں محفوظ ہیں اور وہ مسیح میں اپنی قبولیت اور طرف داری کا یقین رکھتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں وہ اپنی خطا اور کمزوری سے واقف ہیں اور اِس طرح وہ دُوسروں کے بارے میں حساس ہوتے ہیں۔ یسوع نے یسعیاہ کی ایک پیشین گوئی جو مسیح کے بارے میں تھی سامنے رکھتے ہوئے ایک مثال قائم کی ” یہ کُچلے ہُوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور دھُواں اُٹھتے ہُوئے سن کو نہ بجھائے گا جب تک کہ اِنصاف کی فتح نہ کرائے“(متی 20:12 دیکھیے! یسعیاہ 3:42)۔ یسوع لوگوں کے ساتھ محبت آمیز رویے اور شفقت کے ساتھ پیش آیا۔ اِسی طرح، متکبرانہ رویے کے برعکس، خدا کی بادشاہی کے شہری فروتن اور مہربان ہیں۔
مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں کیوں کہ وہ خدا کو دیکھیں گے (متی 8:5)۔
کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ پاک دِل ہے؟ فریسیوں کی مانند ہمارے باطن بھی نجاست سے بھرے ہوئے ہیں۔ لہٰذا یسوع کی اُن کو نصیحت ہم سب کے لیے بھی ہے: ”اَے اَندھے فرِیسی! پہلے پیالے اور رِکابی کو اَندر سے صاف کر تاکہ اُوپر سے بھی صاف ہو جائے “(متی 26:23)۔ پھر بھی یہ صفائی صرف روح القدس کے وسیلہ سے ہی کی جا سکتی ہے۔ ایک بار پھر، یہ خیال کلام مقدس میں بالکل نیا نہیں ہے۔ ہم اِسے پہلے ہی داؤد کے اندر دیکھ سکتے ہیں، جس نے سنگین گناہ سرزد کرنے کے بعد یہ دُعا کی تھی ” زُوفے سے مُجھے صاف کر تُو مَین پاک ہو ں گا۔ مجھے دھو اورمَیں بر ف سے زیادہ سفید ہُوں گا؛ اَے خُدا! میر ے اندرپاک دِل پید ا کر اور میر ے باطنِ میں ازسر ِ نو مستقیمِ روُح ڈال “(زبور7:51،10)۔ داؤد اِس بات کو پہلے ہی جان چکا تھا کہ گناہ لوگوں کو خدا سے جدا کر دیتا ہے اور اِسی لیے اُس نے یہ اِلتجا کہ ” مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر ۔ اور اپنی رُوح کو مجھ سے جدا نہ کر“(زبور 11:51)۔ اگرچہ آج خدا اپنی رُوح کو سچے اِیمان داروں سے جدا نہیں کرے گا تو بھی ہمیں رُوح القدس کی مدد سے اپنے آپ کو پاک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم پاک دِل بن جائیں اور ایک دِن خدا کو دیکھنے کے قابل بن جائیں (2۔کرنتھیوں 1:7؛ 1۔یوحنا 2:3)۔
مُبارک ہیں وہ جو صُلح کراتے ہیں کیوں کہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے (متی 9:5)
ہر شخص صلح چاہتا ہے، لیکن صلح کرانے والے کہاں ہیں؟ لفظ ”صلح کرانے والا“ عہد جدید میں صرف یہیں پر اِستعمال ہوا ہے، جو کہ فعل کی صورت ”صلح کو قائم کرنے والا“ دُوسری مرتبہ پولس رسول کے خط میں صرف ایک بار اِستعمال ہوا ہے ” کیوں کہ باپ کو یہ پسند آیا کہ ساری معمُوری اُسی میں سُکُونت کرے۔اور اُس کے خُون کے سبب سے جو صلیب پر بہا صُلح کر کے سب چیزوں کا اُسی کے وسیلہ سے اپنے ساتھ میل کر لے۔ خواہ وہ زمین کی ہوں خواہ آسمان کی“(کلسیوں 19:1-20)۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع ہی حتمی صلح کرانے والا ہے اور اُس نے اپنی صلیبی موت کے وسیلہ سے ہمیں خدا کے ساتھ ملایا۔ اب جبکہ خدا کے ساتھ ہماری صلح ہے، ہمیں صلح کرانے کے لیے بلایا گیا ہے، اور خدا کے بیٹے کی طرح، ہم ”خدا کے بیٹے“ کہلائیں گے۔ یسوع نے جن برکات کا یہاں ذِکر کیا ہے وہ محض صلح کی قدر کرنے والوں کے لیے نہیں ، بلکہ یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جوخدا اور دُوسروں کے ساتھ صلح کرانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایسے صلح کرانے والے شدت سے اِختلاف کی جگہ ملاپ اور مناسب تعلقات کے آرزُومند ہوتے ہیں، مشتعل انگیز رویے کے برعکس تسلی پانے کی کوشش کرتے ہیں، غصہ دِلانے کی بجائے صلح چاہتے ہیں۔ ” غضب ناک آدمی فتنہ برپاکرتا ہےپر جو قہر میں دھیما ہے جھگڑامٹاتا ہے“(امثال 18:15)۔ تاہم اِیمان داروں کو چاہئے کہ ” سب کے ساتھ میل مِلاپ رکھنے اور اُس پاکِیزگی کے طالِب رہو جِس کے بغَیر کوئی خداوند کو نہ دیکھے گا “ (عبرانیوں 14:12)۔ اِس طرح، خدا کے ایسے بیٹے خدا باپ کی عکاسی کرتے ہیں، جو اپنے پیارے بیٹے کے صلیب پر بہائے جانے والے خون کے وسیلہ سے صلح کو قائم کرنے میں سرگرم عمل ہے۔
مُبارک ہیں وہ جو راست بازی کے سبب سے ستائے گئے ہیں کیوں کہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے (متی 10:5)۔
ایک بار پھر یہاں پر یسوع کے اَلفاظ غیر متوقع ہیں۔ اِس کے صحیح مفہوم میں کوئی شخص بھی ستائے جانے کے بعد اپنے آپ کو مبارک نہیں سمجھے گا۔ لیکن یہاں یسوع نے اُن کے لیے برکت کا اعلان کیا ہے جو کہ راست بازی کے سبب سے ستائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اب تک تمام برکات تیسرے شخص میں منتقل کی گئیں تھیں، لیکن اِس مقام پر یسوع براہ راست اپنے پیروکاروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اُن سے کچھ اِضافی کلام کے ساتھ مخاطب ہوتا ہے: ” جب میرے سبب سے لوگ تُم کو لعن طعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہر طرح کی بُری باتیں تمہاری نِسبت ناحق کہیں گے تو تُم مُبارک ہوگے۔ خوشی کرنا اور نِہایت شادمان ہونا کیوں کہ آسمان پر تمہارا اَجر بڑا ہے۔ اِس لِئے کے لوگوں نے اُن نبِیوں کو بھی جو تُم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا“ (متی 11:5-12)۔ نفرت اور لعن طعن کے ذریعے یسوع کے پیروکار عہدِ عتیق کے انبیاء کی اعلیٰ صف میں داخل ہوتے ہیں جنہوں نے اِس طرح کی ایذارسانی اور بدسلوکی کو برداشت کیا۔ وہ زمینی اذیتیں برداشت کر سکتے ہیں لیکن وہ آسمان پر بہت بڑا اجر پائیں گے۔ جیسا کہ ہم اپنے نیک اعمال کے سبب سے نجات نہیں پاتے، لیکن ہم اچھے کاموں کے لیے ہی بچائے گئے ہیں، ایسے کام جو ہمارے آسمانی باپ کے جلال کا باعث ہوں۔
تُم زمِین کے نمک ہو (متی 13:5)۔
اُس دوران میں، یسوع اپنے پیروکاروں کے لیے دو مختلف اِستعاروں کا اِستعمال کرتے ہوئے یعنی کہ ”وہ نمک اور نور ہیں“ ہدایات فراہم کرتا ہے جو کہ آج بھی دُنیا میں پائی جاتی ہیں۔ نمک کے بارے میں یسوع بیان کرتا ہے: ” لیکِن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کِس چِیز سے نمکین کِیا جائے گا؟ پھِر وہ کِسی کام کا نہِیں ۔ سِوا اِس کے کہ باہِر پھینکا جائے اور آدمِیوں کے پاؤں کے نِیچے رَوندا جائے “(متی 13:5)۔ اگر یسوع کے پیروکار اپنے اِردگرد کی دُنیا سے الگ نہ ہوتے تو کیا وہ فائدہ مند ہو سکتے تھے؟ کھانے میں نمک کی طرح، اِیمان داروں کو ذائقہ فراہم کرنے کے لیے بلایا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اِس بدعنوان معاشرے میں محافظوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ اِس کے برعکس یسوع نے اپنی ایک سنجیدہ وضاحت میں بیان کیا کہ ایک بار جب نمک کا مزہ ختم ہو جائے تو وہ بالکل بیکار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا آیئے بیکار مسیحی نہ بنیں۔
تُم دُنیا کے نُور ہو (متی 14:5)۔
آخرمیں یسوع نور کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ دُوسری جگہ، یسوع نے کہا ”دُنیا کا نور مَیں ہوں“ (یوحنا 12:8؛ 5:9) لیکن یہاں وہ اپنے شاگردوں سے کہتا ہے ”تم دُنیا کے نور ہو“۔ یہ کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یسوع کے پیروکاروں کو بحیثیتِ دُنیا کا نور خدمت کے لیے بلایا گیا ہے، نور پر یقین رکھنے والے کے طور پر، وہ خود ”نور کے فرزند“ بن جاتے ہیں (یوحنا 36:12)۔ نور کے اِستعارے کو وسیع کرتے ہوئے، یسوع نے مزید وضاحت کی کہ” تُم دُنیا کے نُور ہو۔ جو شہر پہاڑ پر بسا ہے وہ چھِپ نہِیں سکتا۔ اور چراغ جلا کر پیمانہ کے نِیچے نہِیں بلکہ چِراغدان پر رکھتے ہیں تو اِس سے گھر کے سب لوگوں کو روشنی پہنچتی ہے۔ اِسی طرح تمہاری روشنی آدمِیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں“ (متی 14:5-16)۔ جبکہ ہم اپنے اچھے کاموں کے سبب سے نجات نہیں پاتے، لیکن ہم اچھے کاموں کے لیے بچائے گئے ہیں تاکہ اُن کے وسیلہ سے ہمارے آسمانی باپ کو جلال ملے۔
پہاڑی وعظ کے بالکل آغاز میں، یسوع نے اپنے پیروکاروں کو شاندار خوبیوں سے بھرا ہوا موسوی شریعت کا نمونہ فراہم کیا جو اُس کے پیروکاروں کی نشان دِہی کرتا ہے: دِل کا غریب، گناہ پر ماتم، حلیمی، راست بازی کی گہری آرزُو، رحم، دِل کی پاکیزگی، صلح کو قائم کرنے کی سرگرم خواہش، صبر کے ساتھ راست بازی کی خاظر دُکھ اُٹھانا۔ خصوصیات کی یہ فہرست واضح طور پر دُنیا کی اَقدار سے قدرِ مختلف ہے جس میں قابلِ فخر خود اِنحصاری، خوشی کی خاطر زندگی بسر کرنا، جارحانہ خود اِعتمادی، ہر قیمت پر آگے بڑھنا، سختی اور بدتمیزی، اِخلاقی بگاڑ اور زوال، جھگڑالو اور اِنتہائی حساس بیداری شامل ہے جس میں کسی کے اپنے حقوق کبھی پامال نہیں ہوتے۔مزید برآں، یسوع کے پیروکاروں کو ثقافت کا ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ دُنیا میں خدا کے نور کی طرح چمکنا چاہئے۔ اِن دس خصوصیات کی پیروی کرتے ہوئے، دِل میں بسنے والے رُوح القدس کی مدد سے، یسوع کے پیروکار ثابت کریں گے کہ وہ خدا کی بادشاہی کے شہری ہیں، وہ پہلے بھی تھے، اب بھی ہیں اور ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔
یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔


