جان کیلوؔن کلیسیا کی اصلاح کی ضرورت پر
11/05/2023
پروٹسٹنٹ ’’بدعات ‘‘میں سے سب بڑی بدعت کون سی ہے؟  
05/06/2023
جان کیلوؔن کلیسیا کی اصلاح کی ضرورت پر
11/05/2023
پروٹسٹنٹ ’’بدعات ‘‘میں سے سب بڑی بدعت کون سی ہے؟  
05/06/2023

انجیل کیا ہے ؟

بہت سے مسیحی ایماندار، کلیسیائیں  اور تنظیمیں  اپنے اقرارالایمان کو بیان کرنے کے لیے باقاعدگی سے لفظ انجیل کا استعمال کرتی ہیں۔ انجیل کے مفہوم اور اِس حوالے سے الہٰیاتی تنازعات  رونما ہو چکے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں کہ کون وفاداری سے اِس کی منادی کرتا ہے۔ اس معروف لفظ انجیل کا کیا مطلب ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کا بہترین طریقہ بائبل  مقدس  سے رجوع کرنا  ہے ۔

یونانی زبان میں مرقوم نئے عہد نامے کے اندر اسم euangelion (یوئنجیلین/یوئنگیلین”انجیل”) قریباًستر بار  نظر ہوتا ہے۔ چونکہ ایک اعتبارسے پورا نیا عہد نامہ  انجیل  کے بارے میں ہے اِس سبب سے  شاید ہماری توقع ہو کہ  یہ لفظ زیادہ بار استعمال ہوا ہوگا۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن  بات یہ ہے کہ نئے عہد نامے کو قلمبند  کرنے والوں  کے درمیان  اس لفظ  کے  استعمال کے حوالے سے کافی فرق پایا  جاتا ہے ۔  باقی تمام مصنفین نے  اِس لفظ کومجموعی طور پر جس قدر استعمال کیا ہے ، پولس رسول   اُس سے اِسکو نسبتاً   تین گُنا سے زیادہ  استعمال کرتا ہے ۔ دیگرمقامات پر اِس  کا زیادہ تر استعمال  متی  اور مرقس  کی انجیل میں پایا جاتا ہے جبکہ اگر کہیں اور پر کچھ ہے تو وہ چند ایک دفعہ لوقا اور یوحنا کی اناجیل   اور  پطرس اور یعقوب کے خطوط  میں ملتا ہے ۔

لفظ انجیل کا سب سے آسان مطلب "خوشخبری” ہے۔ یہ لفظ مسیحی پیغام کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ بُت پرستانہ   دنیا/غیر اقوام  میں کسی اچھی خبر کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔ نئے عہد نامے میں اِس سے مُراد  منّجی خداوند یسوع کی خوشخبری ہے۔ یہ لفظ  اکثر اِس  فرض کردہ خیال / مفروضےکے ساتھ استعمال ہوتا ہے کہ قاری پہلے سے جانتا ہے کہ اس لفظ کامطلب کیاہے۔

جب  ہم نئے عہد نامے میں لفظ  انجیل کے استعمال کے طریقوں کو زیادہ توجہ سے دیکھتے ہیں  تو واضح طور پر  کئی نکات سامنے آتے ہیں۔  پہلایہ کہ اکثر نئے عہد نامے میں   "خدا کی خوشخبری” جیسے الفاظ پاتے ہیں۔ یہ جزو جملہ انجیل کے ماخذ   کے تعلق سے اِس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ خُدا کا تحفہ ہے۔انجیل کا ماخذانسانی نہیں بلکہ   الٰہی ہے۔ دوسرانکتہ یہ ہےکہ انجیل کی خصوصیت کو کئی انداز میں بیان کیا  جاتا ہے : انجیل سچی  (گلتیوں 2باب 5، 14آیات؛ کلسیوں 1باب 5آیت)، پُر فضل  (اعمال20باب 24آیت) اور پُر جلال ہے  (2کرنتھیوں  4باب 4آیت؛1تیمتھیس 1باب 11آیت)۔ تیسرا یہ کہ ہم انجیل کے  لیے دو ردّعمل دیکھتے ہیں ۔ ایما ن لانا اہم ترین ردّعمل ہے(اعمال 15باب 7آیت؛ افسیوں  1باب 13آیت)۔ مگر تابعداری بھی  ایک ردّعمل  ہے (1پطرس 4باب 7آیت؛ رومیوں  1باب 5آیت؛ 10باب 16آیت؛ 16باب 26آیت؛ 2تھسلنیکیوں  1باب 8آیت)۔ 

رومیوں کے نام خط  میں پولس رسول   نے  ایمان  کے تابع ہونے کے خیال  کا جو استعمال کیا ہے اس میں   طنزکا عنصر پایا جاتا ہے کیونکہ وہ اُن لوگوں سے مخاطب ہے جنہوں نے اُس پراضدادیت یعنی شریعت کا مخالف (اخلاقیات کا منکر ) ہونے کا الزام لگایا ہے۔ چوتھایہ  کہ  ہم انجیل کے متعدد نتائج  کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ انجیل یقیناً  نجات کا باعث بنتی  ہے (رومیوں 1باب 16آیت؛ افسیوں 1باب 13آیت)۔ یہ خدا کی بادشاہی کو بھی  قائم کرتی  ہے (متی  4باب 23آیت؛ 9باب 35آیت؛ 24باب 14آیت)۔  یہ خدا کے لوگوں میں اُمید پیدا کرتی ہے (کلسیوں 1باب 23آیت)۔  انجیل تقدیس کی بھی ترغیب ہے (مرقس 8باب 35آیت؛ 10باب 29آیت؛ 2کرنتھیوں 9باب 13آیت؛ افسیوں 6باب 15 آیت؛ فلپیوں  1باب 27آیت)۔ 

وہ سب طریقے جن میں یہ لفظ انجیل استعمال ہوا ہے اِسی کے مشمولات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن نئے عہد نامے کے اندر ایسے حوالہ جات/متّون بھی موجود ہیں جو اِس کے مشمولات کے بارے میں بالکل واضح ہیں۔ اِن  متّون/حوالہ جات کاتجزیہ   کرنے سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ لفظ انجیل بعض اوقات   وسیع مفہوم  میں اُس نجات اور نئی زندگی کے تمام پہلوؤں کا حوالہ  دیتا ہے جو  خداوند یسوع اپنے لوگوں کو عطا کرتا ہے اور کبھی کبھی  محدود معنوں میں  یہ اُس  کا  م کوبیان کرنے کےلیے استعمال  کیا جاتا ہے جو  خُداوند  یسوع ہماری ذات سے باہر ہمارے لیے کرتا ہے۔  دوسرے  الفاظ میں  انجیل کی اصطلاح وسیع  معنوں  میں کبھی کبھار   خُداوند یسوع کے اپنے لوگوں  کی خاطر  اور  اُن کی زندگی میں تقدیس کے عمل  اور اُنہیں    راستباز ٹھہرانے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور  بعض اوقات یہ محدود معنوں میں خُداوند یسوع کی طرف راستباز ٹھہرانےکے کام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔  اِن کے درمیان فرق کو بیان کرنے کا  ایک اور طریقہ یہ ہے کہ  بعض اوقات لفظ انجیل وسیع  معنوں  میں    نئے عہد نامے کی اُن تمام باتوں کی تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کا پرانے عہد نامے میں وعدہ  کیا گیا تھا اور بعض اوقات  انجیل کی اصطلاح کو شریعت کے کام کے برعکس یسوع مسیح کے کام کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

لفظ انجیل کے وسیع تر مفہوم  کی ایک مثال مرقس 1باب 1آیت  میں دیکھی جا سکتی ہے”یسُو ع مسیح اِبنِ خُدا کی خُوشخبری کا شرُوع”۔ لفظ انجیل کا یہ استعمال ہر اُس بات  کی طرف اشارہ کرتا معلوم ہوتاہے جو مرقس  رسول ہمیں خداوند  یسوع کی تعلیم اور خدمت کے بارے میں بتاتا ہے۔ مکاشفہ 14باب 6-7آیات  میں ہم  ایک اور وسیع استعمال کو  دیکھتے ہیں:

’’پھر مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو آسمان کے بیچ میں اُڑتے ہُوئے دیکھا جس کے پاس زمین کے رہنے والوں کی ہر قوم اور قبیلہ اور اَہل ِزُبان اور اُمّت کے سُنانے کے لئے اَبدی خُوش خبری تھی۔ اور اُس نے بڑی آواز سے کہا کہ خُدا سے ڈرو اور اُس کی تمجید کرو کیونکہ اُس کی عدالت کا وقت آ پہنچا ہے اور اُسی کی عبادت کرو جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور پانی کے چشمے پیدا کئے”۔

یہاں انجیل توبہ  اور خدا کی عبادت کرنے  کا بلاوہ ہے۔

اکثر اوقات  انجیل کی اصطلاح  کومحدود معنوں میں   استعمال کیا جاتااور اِس کے موضوع کی وضاحت کی جاتی ہے۔  اس  عمل  کو ہم 1کرنتھیوں 15باب 1-4آیات میں دیکھتے ہیں ۔

’’اب اَے بھائیو! مَیں تمہیں وُہی خوشخبری جتائے دیتا ہوں جو پہلے دے چکا ہوں جسے تم نے قبول بھی کر لِیا تھا اور جس پر قائِم بھی ہو۔اُسی کے وسیلہ سے تم کو نجات بھی ملتی ہے بشرطیکہ وہ خوشخبری جو مَیں نے تمہیں دی تھی یاد رکھتے ہو ورنہ تمہارا اِیمان لانا بے فائدہ ہؤا۔ چُنانچہ مَیں نے سب سے پہلے تم کو وُہی بات پہنچا دی جو مجھے پہنچی تھی کہ مسیح کِتابِ مُقدّس کے مُطابِق ہمارے گُناہوں کے لئے مُؤا۔اور دفن ہُؤا اور تیسرے دِن کِتابِ مُقدّس کے مُطابِق جی اُٹھا”

یہاں  لفظ انجیل   خداوند  یسوع کی نجات بخش موت اور مُردوں  میں جی اُٹھنے کا پیغام ہے۔

پولُس رسول ایک اور جگہ لکھتا   ہے کہ  "یہ خُدایِ مُبارک کے جلال کی اُس خوشخبری کے موافق ہے جو میرے سپُرد ہُوئی”اور پھر وضاحت کرتا ہے کہ   وہ خوشخبری کیا ہے:

’’یہ بات سچ اور ہر طرح سے قبُول کرنے کے لائِق ہے کہ مسیح یسُو ع گنہگاروں کو نجات دینے کے لئےدُنیا میں آیا جِن میں سب سے بڑا مَیں ہُوں لیکن مجھ پر رَحم اِس لئے ہُؤا کہ یسُو ع مسیح مجھ بڑے گنہگار میں اپنا کمال تحمل ظاہر کرے تاکہ جو لوگ ہمیشہ کی زِندگی کے لئے اُس پر اِیمان لائیں گے اُن کے لئے مَیں نمُونہ بنُوں” 1تیمتھیس 1باب 11، 15-16آیات)۔

یہاں انجیل گنہگاروں کی خاطر  مسیح کا نجات بخش کا م ہے ۔

بالکل یہی بات پولس رسول تیمتھیس کے نام دوسرے خط  میں لکھتا ہے :

’پس ہمارے خُداوندکی گواہی دینے سے اور مجھ سے جو اُس کا قَیدی ہوں شرم نہ کر بلکہ خُدا کی قدرت کے موافِق خوشخبری کی خاطر میرے ساتھ دُکھ اُٹھا۔جس نے ہمیں نجات دی اور پاک بُلاوے سے بُلایا ہمارے کاموں کے مُوافق نہیں بلکہ اپنے خاص اِرادہ اور اُس فضل کے مُوافق جو مسیح یِسُو ع میں ہم پر ازل سے ہُؤا۔مگر اب ہمارے مُنّجی مسیح یسُو ع کے ظہورسے ظاہرہُؤا جس نے مَوت کو نیست اور زِندگی اور بقاء کو اُس خُوشخبری کے وسیلہ سے رَوشن کر دِیا۔۔۔ ۔ ۔ ۔ یسُو ع مسیح کو یاد رکھ جو مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور داؤُؔد کی نَسل سے ہے ۔ میری اُس خُوشخبری کے مُوافِق”۔ 2تیمتھیس 1باب 8-10آیت؛ 2باب 8آیت)۔

لفظ انجیل کا  ایسا محدود  معنوں میں استعمال سولہویں صدی کے اصلاح کاروں  کی تصانیف میں بڑا عام تھا۔ ہم جون کیلون کے خیال میں اِسے دیکھ سکتے ہیں:

’’ایمان کے کلام کوعلم  البدیع  [اجزائے کلام: جس میں کسی چیز کے نام کا استعمال کسی  ایسی دوسری چیز کے لئے ہوتا ہے جس کی یہ ایک صفت ہو   یا جس کے ساتھ اس کا تعلق ہو ] کی جانب سے وعدے کا کلام خود  انجیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے  کیونکہ اِس کا تعلق ایمان کے ساتھ ہے۔ شریعت اور انجیل کے درمیان فرق کو سمجھا جانا چاہیے اور اس فرق سے ہم یہ اخذ کرتے ہیں کہ جس طرح شریعت   عمل  کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ، اُسی طرح انجیل صرف اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خدا کا فضل حاصل کرنے کے لیے لوگوں  کو ایمان لانا چاہیے۔

 یہ بات زَکرایااَرساینس کے کام   میں بھی واضح ہے۔ ہائیڈل برگ کیٹیکزم (Heidelberg Catechism ) پر اپنی تفسیر کے آغاز  میں ہی اَرساینس سارے اقرارالایمان     کو شریعت اور انجیل میں تقسیم کرتا ہے:

کلیسیا ئی عقیدہ /اقرار الایمان دو حصوں پر مشتمل ہے :شریعت اور انجیل ؛ جس میں ہم نے مُقدس صحائف کے لبِ لباب کو سمجھا ہے۔ شریعت ڈیکلوگ(Decalogue-موسوی احکام) کہلاتی  ہے اور انجیل  وہ عقیدہ ہے جس کا تعلق  ہمارے درمیانی مسیح    اور ایمان کے  وسیلے گناہوں کی مفت معافی   کیساتھ   ہے ۔

انجیل پر اس طرح  کی سوچ بچاراصلاحی علمِ الٰہی میں عام پائی جاتی  رہی   ہے جیسا کہ ہم عظیم ڈچ ماہر علمِ الٰہی ہرمن باونک کے اس طویل اور دلچسپ اقتباس  میں  دیکھتے ہیں: 

لیکن خدا کا کلام دونوں   شریعت اور انجیل کی حیثیت  سے  اُس کی  مرضی کے مکاشفہ ، اعمال کے عہد   اور فضل کے  عہد کا اعلان/اشاعت ہے  ۔ ۔ ۔ اگرچہ "شریعت ” اور "انجیل” کی اصطلاحات  کو وسیع معنوں میں  فضل کے عہد کے پرانے اور نئے نظام/دور کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال  کیا جا سکتا ہے،  لیکن اِن  کی اصل اہمیت کے تعلق سے  یہ یقینی طور پر الٰہی مرضی کے دو مختلف مکاشفات کو بیان کرتے ہیں [بیوِنک ثبوت کے طور پر  یہاں  نئے عہد نامے کے بہت سے حوالہ جات/متّون کو پیش کرتا ہے ]۔  ۔ ۔ ۔ اِن  حوالہ جات/متّون میں شریعت اور انجیل  کا تقاضے  اور بخشش ، حکم اور وعدے  ، گناہ اور فضل ، بیماری اور شفا ، موت اور زندگی کے طور پر تقابلی موازنہ کیا گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ شریعت خُدا کی پاکیزگی    جبکہ  انجیل  خُدا کے فضل  کی پیداوار   ہے ؛ شریعت کا ادراک فطرت سے جبکہ انجیل کا ادراک  صرف مکاشفہِ خاص سے ہی حاصل ہوتا ہے؛ شریعت کامل راستبازی کا مطالبہ کرتی ہے  جبکہ  انجیل اِسے عطا کرتی ہے؛ شریعت لوگوں کی  اعمال کے ذریعے ابدی زندگی کی طرف رہنمائی  کرتی   ہےاور انجیل ایمان میں عطا کردہ  ابدی زندگی کی دولت کے وسیلے  اچھےاعمال پیدا کرتی ہے؛ شریعت   فی الوقت لوگوں کو مجرم ٹھہراتی   ہےجبکہ  انجیل انہیں برّی قرار دیتی ہے؛شریعت  تمام لوگوں سے مخاطب ہوتی ہے  اور انجیل صرف اُن لوگوں سے مخاطب ہے  جو اُس کی آوازکے مطابق رندگی بسر کرتے ہیں۔

انجیل کی یہ پیشکش کتنی واضح، منفرد،بائبلی اور  خاص  ہے ۔ 

کلیسیا کوانجیل  کے وسیع  اور محدود دونوں معنوں میں اِس کی منادی کرنے کی ضرورت ہے ۔  انجیل کے لیے یونانی لفظeuangelion نے انگریزی بولنے والے لوگوں  کو لفظ ایونجلیزم  (انجیل کی منادی/بشارتی خدمت)عطا کیا ہے ۔  متی 28باب 18-20 آیات میں  خداوند  یسوع کے ارشادِ اعظم  کے مطابق حقیقی ایونجلیزم/بشارتی خدمت شاگرد بنانے سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے : پہلا، محدود معنوں کے مطابق،  سب سے پہلے  مردوں اور عورتوں کو یسوع پر ایمان لانے کے لیے بلانا اور  دوسرا، وسیع معنوں کے مطابق ،اُنہیں اُن تمام باتوں پر عمل کرنے کی تعلیم دینا جو خداوند  یسوع نے اپنے لوگوں کو سکھائی ہیں۔ آئیں  انجیل کی خاطرسب حقیقی منادی  کو فروغ دیں۔


یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔

ڈبلیو ۔ رابرٹ گاڈ فری
ڈبلیو ۔ رابرٹ گاڈ فری
ڈاکٹر ڈبلیو رابرٹ گاڈ فری لیگننئیر منسٹریز کے تدریسی ساتھی اور لیگنئیر منسٹریز کے چیر مین ہیں۔ وہ ویسٹ منسٹر سیمنری کیلیفورنیا میں اعزازی صدر اور کلیسیاکی تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ وہ لیگنئیر کی کئی تدریسی سیریز کے لیے نمایاں استاد ہیں، بشمول چھ حصوں پر مشتمل سیریز ’’کلیسیا کی تاریخ کا سروے‘‘۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں خدا کا نمونہء تخلیق، اصلاحی خاکے، اور ایک غیر متوقع سفر شامل ہیں۔