کیا یسوع مسیح ہمارے لئے نمونہ ہے؟
03/11/2026
کیا یسوع مسیح ہمارے لئے نمونہ ہے؟
03/11/2026

بُت  پرستی سے کیا مُراد ہے؟

جب لوگ ’’بُت  پرستی‘‘   کا لفظ سُنتے ہیں تو اُن کے ذہن میں مختلف تصوُّرات آتے ہیں۔ بعض لوگ قدِیم رسُومات کا تصوُّر کرتے ہیں، جہاں لوگ تراشے ہوئے بُتوں کے سامنے سجدہ کر کے اُن کی عبادت کرتے تھے۔ بعض کے ذہن میں وہ لوگ آتے ہیں جو اپنے پسندیدہ اداکاروں، کھلاڑیوں یا موسیقاروں کو حد سے بڑھ کر پسند کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ بعض  لوگ اِس لفظ کو کسی شدید وابستگی یا جنون کے اِستعارے کے طور پر اِستعمال کرتے ہیں۔

تو پھر بُت  پرستی کیا ہے؟ بنیادی طور پر، بُت  پرستی خالق کی بجائے کسی بھی مخلوق کی عبادت کرنے کا نام ہے۔

خدا بُت  پرستی کے بارے میں اِس قدر فکر مند کیوں ہے؟ اِس کی وجہ نہایت سادہ ہے: خدا بُت  پرستی کے بارے میں اِس لئے فکر مند ہے، کیوں کہ وہ عبادت کے بارے میں فکر مند ہے۔

بعض اوقات یہ تصوُّر جدید قارئین کے لئے باعثِ تشویش بن جاتا ہے، کیوں کہ وہ خدا کو ایک ایسے خود پسند وجود کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں جو اپنی عبادت کا حد سے بڑھ کر طلب گار ہے۔ اگر خدا بھی مخلوق ہوتا، نہ کہ خالق، تو کیا یہ بات دُرُست ہوتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خدا نے ہمیں اپنی عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہی دُرُست ہے، اور یہی اچھا بھی ہے، کیوں کہ صرف خدا ہی عبادت کا مستحق ہے۔ لیکن اگر ہم اِس کے برعکس یہ فرض کریں کہ خدا اپنے جلال اور اپنی عزت کو برقرار نہیں رکھتا اور نہ ہی اُن کی حفاظت کرتا ہے، تو وہ اپنی ذات کے تقاضوں کے مطابق خدا نہیں ہوگا۔ اکثر لوگ خدا کے بارے میں یوں سوچتے ہیں گویا وہ بھی ایک اِنسان ہے، یعنی مخلوقات میں سے ایک، جبکہ دُوسری طرف وہ مخلوق کو اِس طرح دیکھتے ہیں گویا وہ خدا ہے اور عبادت کے لائق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کو اُس کے مقام سے بلند کرنا اور خالق کو اُس کے شایانِ شان مقام سے گرانا، دونوں ہی یکساں طور پر نامناسب ہیں۔ یہی بُت  پرستی ہے۔

پولُس رسول بُت  پرستی کو ایک تبادلے کے طور پر بیان کرتا ہے۔ خدا کو جلال دینے کے بجائے، اُس جلال کو مخلوق کی صورتوں اور تشبیہات کے جلال سے بدل دیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے عبادت گزار ’’خدا کی سچائی کو جھوٹ سے بدل کر مخلوق کی پرستش اور عبادت کرتا ہے، نہ کہ خالق کی، جو اَبد تک  محمود  ہے۔ آمین ‘‘ (رومیوں 25:1)۔ 

خدا کے جلال کو بُتوں سے بدل دینا ایسا ہی ہے جیسے ترازُو میں خدا کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جائے۔ خدا کے جلال، یعنی اُس کی لامحدود عظمت، بے پایاں قدر و قیمت اور حقیقی جوہر کو پہچاننے کے بجائے، عبادت گزار یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خدا کسی مخلوق کے مقابلے میں کم قدر رکھتا ہے، حالاں کہ مخلوق اپنی حقیقت میں نہایت حقیر، بے  وُقعت اور بے حقیقت ہے۔ یہ تبادلہ حماقت کی اِنتہا ہے۔ ذرا تصوُّر کریں کہ کوئی شخص ترازُو میں ایک ہاتھی اور پرندے کے ایک پَر کا موازنہ کرے، پھر یہ نتیجہ نکالے کہ پرندے کا پَر زیادہ بھاری ہے۔ ظاہر ہے، ایسا شخص حقیقت سے بالکل بے خبر ہوگا۔ آخر کوئی ایسا کیسے سوچ سکتا ہے؟ ہم خدا کے مقام پر کسی بُت  کو کیسے فائز کر سکتے ہیں؟ صرف اُسی صورت میں کہ ہم خدا کی سچائی کو جھوٹ سے بدل دیں۔ جب ہم خدا کے اُس مکاشفہ کو ردّ کر دیتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنی ذات کو ظاہر کرتا ہے، تو ہم غلط نتائج اَخذ کرنے لگتے ہیں(رومیوں 18:1)۔

مخلوق کو اُس کے حقیقی مقام سے بلند کرنا اور خالق کو اُس کے شایانِ شان مقام سے گرانا، دونوں ہی نامناسب ہیں۔ یہی بُت  پرستی ہے۔ بُت  پرستی سے محفوظ رکھنے اور خدا کی حقیقی عبادت کو فروغ دینے کے لئے، خداوند اپنے کلام میں ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے: ” خُداوندتیرا خُدا جو تجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا مَیں ہُوں۔  میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا“ (خروج 2:20-3)۔ اِس معروف عبارت کو جان بوجھ کر دس احکام کے آغاز میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں کسی بھی شخص یا کسی بھی چیز کو یہ اِجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ خدا کے برتر اور مخصوص مقام پر قابض ہو جائے۔

لیکن ہم پوری کتابِ مُقدّس میں بار بار کیا دیکھتے ہیں؟ حتیٰ کہ خروج ہی کی کتاب میں، وہ لوگ جنہیں خدا نے مصر سے رِہائی دی تھی، اپنے ہی  سونے سے ایک معبود بنا بیٹھے اور پھر اُسی کی عبادت کرنے لگے (خروج 32)۔ بعد میں، جب یربعام بادشاہ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں اُس کی سلطنت اُس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے، تو اُس نے بھی اِسی بُت  پرستی کو دوبارہ رائج کیا اور اپنی طرف سے عبادت کا ایک نیا نظام اِیجاد کر لیا۔ خدا کے جلال کو ترک کر کے، اُنہوں نے اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کی عبادت کی اور کہا:” اِس لیے اُس بادشاہ نے مشورت لے کر سونے کے دو بچھڑے بنائے اور لوگوں سے کہا یروشلیم کو جانا تمہاری طاقت سے باہر ہے ۔ اَے اسرائیل اپنے دیوتاؤں کو دیکھ جو تجھے مُلکِ مصر سے نکال لائے“(1۔سلاطین 28:12)۔ یہ معروف واقعات ہمارے لئے نہایت واضح تنبیہات ہیں اور ہمیں بُت  پرستی سے خبردار کرتے ہیں۔ خدا بُت  پرستی سے نفرت کرتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے جلال سے محبُت  رکھتا ہے۔ اور خدا اپنے جلال سے اِس لئے محبُت  رکھتا ہے، کیوں کہ وہ سراسر بھلائی ہے۔

بہت سے مفسرین نے اِس بات کی نشان دِہی کی ہے کہ پہلا حکم باقی نو احکام کی بنیاد ہے، کیوں کہ دُوسرے احکام میں سے کسی ایک کی بھی نافرمانی درحقیقت سچے خدا سے منہ موڑ کر کسی بُت  کی پرستش کرنے کے مترادف ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بُت  پرستی کس قدر مختلف اور خطرناک صورتیں اِختیار کر سکتی ہے۔ ہم عموماً بُت  پرستی کو کسی حقیقی بُت  کے سامنے سجدہ کرنے تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن یہ اُس چیز کی خواہش کرنے کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے جو آپ کے پاس نہیں، مگر کسی اَور کے پاس ہے (دیکھیے خروج 17:20)۔ 

جب ہم مسیحی بنتے ہیں تو ہم بُتوں کو چھوڑ کر زندہ خدا کی خدمت کرنے کی طرف رُجُوع کرتے ہیں(1۔تھسلنیکیوں 9:1) ۔  لیکن یہ اِس جنگ کا اِختتام نہیں ہے۔ ہمیں ہر وقت بُتوں سے دُور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے(1۔کرنتھیوں 14:10)۔ اور پوری کوشش کرنی ہے کہ ہم خود بھی اُن سے محفوظ رہیں اور دُوسروں کو بھی اُن سے محفوظ رکھیں (1۔ یوحنا 21:5)۔ 

پولُس رسول ہمارے سامنے ایک موزُوں اور سبق آموز مثال پیش کرتا ہے۔ جب وہ اتھینے میں اپنے ہم خدمت ساتھیوں کا اِنتظار کرتے ہوئے شہر کا جائزہ لے رہا تھا، تو اُس نے  اُس شہر کے مناظر  پر غور کیا۔ لیکن وہ وہاں کی شاندار عمارتوں سے متاثر ہونے کے بجائے، شہر میں پھیلی ہوئی بُت  پرستی کو دیکھ کر اُس کا دِل بے چین ہو گیا(اعمال 16:17)۔ پولُس رسول خدا کے جلال کے لئے اِس قدر غیرت مند تھا کہ یہ بات اُسے اندر تک بے قرار کر رہی تھی کہ خدا کو وہ عزت نہیں دی جا رہی جس کا وہ مستحق ہے۔ اِسی وجہ سے وہ نکل پڑا اور اپنے آس پاس کے ہر شخص کو خوش خبری سنانے لگا۔

خدا کی عزت و جلال سے اِس طرح محبُت  رکھنا بُت  پرستی کے خلاف ایک مؤثر حفاظتی حصار ہے۔ اِس لئے ہر چیز سے بڑھ کر خدا کی بے مثال عظمت پر گہرے طور پر غور کریں۔ اُس کی اٹل وفاداری، بے اِنتہا محبُت ، لازوال فضل، غیر متبدّل راست بازی، بے عیب بھلائی، لا خطا حکمت اور لاتبدیل ذات پر دھیان لگائیں۔ آخر کون ہے جو اُس کی مانند ہو؟ پھر اِس حقیقت پر غور کریں کہ یسوع مسیح میں خدا نے اپنے آپ کو اُسی خدا کے طور پر ظاہر کیا ہے جو آپ کو جانتا بھی ہے اور آپ سے محبُت  بھی رکھتا ہے۔ ہم دُعا کر سکتے ہیں کہ خدا ہماری مدد کرے، اور ہم یہ پختہ اِرادہ کریں کہ ہم خدا کو وہ عزت و جلال دیں جس کا وہ مستحق ہے، اور اِس کے برخلاف ہر بات ہمیں ناگوار گزرے۔

یہ مضمون سب سے پہلے لیگنئیر منسٹریز کے بلاگ میں شائع ہو چکا ہے۔